You are currently viewing صادق خان تیسری بارلندن کے مئیر بن گئے

صادق خان تیسری بارلندن کے مئیر بن گئے

 مئی 2  کو انگلینڈمیں کاؤنسل اور مئیر الیکشن ہوا۔ جس میں انگلینڈ کے کاؤنسل الیکشن میں لیبر پارٹی کو شاندار کامیابی ملی۔ جس کی ایک وجہ عام لوگوں کا کنزرویٹیو پارٹی سے بیزار ہوکر احتجاجی طور پر پر لیبر پارٹی کو ووٹ دینا تھا۔

 لگاتار بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور اسرائیل کا مسلسل فلسطین پر حملے اور حکومت کی ناکام پالیسی اور سیاست دانوں کی ہٹ دھرمی نے عام لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔مانچسٹر میں مئیر الیکشن کو لیبر پارٹی نے ایک بار پھر جیت لیا اور لندن میں لیبر پارٹی کے صادق خان تیسری مرتبہ لندن کے مئیر کی حیثیت سے اپنے حریف کنزرویٹیو پارٹی کے سوزن ہال کو شکست دے کر شاندار کامیبای حاصل کی۔ہفتہ4 مئی کے دوپہر جب لندن کے مئیر الیکشن کا نتیجہ آنے لگا تو دھیرے دھیرے اس بات کی امید ہونے لگی کہ اب لندن کے نئے مئیرپھرصادق خان ہی ہوں گے۔

ویسے اس بار صادق خان کی جیت پر سوالیہ نشان لگا ہوا تھا۔تاہم چند ہفتے قبل ایکزٹ پول نے صادق خان کی جیت کی پیشن گوئی کر دی تھی۔ صادق خان کی جیت سے جہاں لیبر پارٹی کوکچھ حد تک راحت ملی تو اس سے کہیں زیادہ پاکستانی اور ایشیائی لوگ ان کی جیت کا جشن منا رہے ہیں اور منائیں بھی کیوں نہیں کیونکہ صادق خان کے والدین کا تعلق پاکستان سے رہا ہے اور اس کے علاوہ صادق خان مسلمان بھی ہیں۔ صادق خان نام سے اور لندن کے مسلم مئیر بننے پر اُن تمام لوگوں کی طرح مجھے بھی بے حد خوشی اور ہمدردی ہورہی ہے۔

کئی ہفتے سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ اس بار صادق خان کا جیتنا شاید مشکل ہو۔ کئی لوگ صادق خان کی یولیز(الٹرا لو ایمیشن زون) کی پابندی سے ناراض تھے۔ جسے صادق خان نے پچھلے سال نافذ کیا تھا۔یولیز زون کے تحت لندن کونسل کے احاطے میں پرانی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔جس سے پرانی گاڑیوں کے مالکان کافی ناراض ہیں۔ ایک سال پہلے مئیر صادق خان نے ایک کتاب شائع کی جس میں ماحولیات اور لندن کی آب و ہوا کو صاف و شفاف کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کی تھی۔

صادق خان کی جیت کو لندن مئیر الیکشن کا ایک راحت ملنے والانتیجہ مانا جا رہا ہے۔ لندن کے ہر حصےّ سے صادق خان نے ووٹ پایا ہے جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ صادق خان کو ہر طبقے اور مذہب کے لوگوں نے ووٹ دیا ہے۔ان کی اس جیت سے اس بات کا بھی اندازہ ہورہا ہے کہ لیبر پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت میں کافی سدھار آیا ہے۔صادق خان کو پوری مہم کے دوران پسندیدہ کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ کچھ رائے دہندگان نے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ وہ پہلے راؤنڈ میں آدھے سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے۔ تاہم پچھلے تمام مئیر الیکشن کے مقابلے میں اس بار صادق خان نے زیادہ ووٹ سے جیت حاصل کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔صادق خان نے اپنے کنزرویٹیو حریف سوزن ہال کو 276000سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی۔

صادق خان کی پیدائش ایک پاکستانی خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد روزگار کے سلسلے میں پاکستان سے لندن ہجرت کر کے آئے تھے اور لندن میں بس ڈرائیور تھے۔ صادق خان کا پورا خاندان جنوبی لندن کے کونسل اسٹیٹ (وہ رہائشی مکان جس میں کم آمدنی یا غریب لوگ رہتے ہیں)میں آباد تھا۔ اسی وجہ سے صادق خان نے ہمیشہ اپنی تقریر میں اس بات کا ذکر کیا کہ میں ایک بس ڈرائیور کا بیٹا ہوں اور میری پرورش ایک کونسل اسٹیٹ میں ہوئی ہے۔ صادق خان پیشے سے ایک وکیل ہیں اور انہوں نے ایم پی بننے سے پہلے انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر کام کیا تھا۔ ان کی شادی سعدیہ سے تیس سال پہلے ہوئی تھی اور ان دونوں کے دو بیٹیاں ہیں۔ صادق خان کی بیوی سعدیہ بھی پیشے سے ایک وکیل ہیں۔ صادق خان کے پاس ان کا ایک کتا بھی ہے جسے وہ اکثر اپنے انسٹا گرام پر شئیر کرتے ہیں۔

صادق خان اور ان کے گھر والے ہمیشہ رمضان پابندی سے مناتے ہیں اور یہ پہلے برٹش منسٹر تھے جنہوں نے حج کے فرائض بھی ادا کئے ہیں۔ صادق خان کا کہنا ہے کہ ’میں نے ٹوٹنگ اور بالہم کے علاقے میں مدرسہ میں عربی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی ہے جس کی وجہ سے کم عمری سے ہی انہیں توحید،نماز،زکاۃ،روزہ اور حج جو کہ اسلام کے پانچ ستون ہیں، کا علم ہوا۔ صادق خان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنی جوانی کے زیادہ تر دنوں کو انتہا پسندی کے خلاف لڑنے میں گزاری ہے۔2023میں صادق خان نے عمرہ کی بھی سعادت حاصل کی تھی۔جسے انہوں نے سوشل میڈیا پر فخریہ پیش بھی کیا تھا۔

انگلینڈ کی پوری مسلم آبادی کے لگ بھگ 40% چالیس فی صد مسلمان لندن میں آباد ہیں اور صادق خان نے ہمیشہ مسلمانوں کے معاملے میں کھل کر باتیں کی ہیں۔ اسی لئے ایسا مانا جا رہا ہے کہ صادق خان کی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے لندن کے زیادہ تر مسلمانوں نے صادق خان کو ایک طرفہ ووٹ دیا ہے۔لندن کے مئیر کے اختیار میں سب سے اہم چیزیں ٹرانسپورٹ، پولیس، ماحول اور نئے مکانوں کی تعمیر اور پلاننگ ہوتی ہیں جس کے لئے مئیر شہر کی ترقی اور تعمیری کاموں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لندن اسمبلی کے ممبران ہوتے ہیں جو مئیر کی پالیسی کی حمایت میں ووٹ دے کر مئیر کے کا موں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس میں ایک اہم بات یہ ہے کہ صادق خان نے اپنے منثور میں اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ مئیر بنے تو چار سال تک ٹرانسپورٹ کا کرایہ نہیں بڑھائیں گے۔

صادق خان نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ’میری مہم بنا تنازعہ کے نہیں تھی لیکن قابلِ تعریف ہیں وہ ووٹر  جنہوں نے مجھے چنا ہے۔اس لئے مجھے امید ہے کہ میں لندن شہر کے لئے ان تمام وعدوں کو پورا کروں گا جو میں نے کیے ہیں۔میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ لندن شہر کو مزید بہتر بناؤں‘۔صادق خان نے یہ بھی عہد کیا کہ وہ لندن اسمبلی کو شفاف، شمولیت اور رسائی والی انتظامیہ بنائیں گے۔جو کہ اب تک لندن والوں نے نہیں دیکھا ہے۔صادق خان نے مزید کہا کہ ’میں ہمیشہ تمام لندن کا مئیر رہوں گا، اس شہر میں ہر ایک فرد کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کروں گا۔

صادق خان کی شاندار جیت سے جہاں مسلمانوں اور خاص کر پاکستانی نژاد کے لوگوں کو خوشی ہوئی ہے تو وہیں لندن کے ہر ذات اور مذہب کے لوگ بھی صادق خان کی شاندار جیت سے خوش ہیں۔ اور خوشی ہونے کی بات بھی ہے کیونکہ تیسری بار ایک مسلم اور پاکستانی نژاد انسان پھر لندن کا مئیر بنا ہے۔ لیکن وہیں تنقید نگار صادق خان کی ان باتوں کو بھی یاد دلا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ تنازعہ کے شکار رہے ہیں۔ مثلاً چند سال قبل برطانوی پارلیمنٹ نے ہم جنس شادیوں کو قانونی درجہ دینے کے لئے ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا جس کی حمایت میں صادق خان نے اپنا ووٹ دیا تھا تب سے صادق خان کو کئی دھمکیاں بھی مل چکی ہیں۔

سے 2016 اب تک صادق خان کے مئیربننے کے بعدان کی کئی ایسی پالیسیاں ہیں جس پر ہمیشہ تنقید ہوتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ صادق خان کی  سائیکل لین پر بھی لوگوں میں ناراضگی تھی۔ لوگوں نے مئیر صادق خان سے ہفتہ اور اتوار کو لندن شہر میں گاڑی چلانے پر کنزیشن چارج پر بھی رنج کا اظہار کیا تھا۔ اور پچھلے سال یولیز کی پابندی سے بھی صادق خان مسلسل نشانے پر رہے۔لیکن صادق خان کی مسلسل تیسری بار مئیر الیکشن کی کامیابی نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ لندن والے صادق خان کے کام کاج سے کافی مطمئن ہیں۔

میں صادق خان کی شاندار کامیابی پر انہیں دلی مبارک باد پیش کر تا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ تاریخی شہر لندن کی خوبصورتی میں مزیدچار چاند لگائیں گے اور دنیا کے سب سے اچھے ٹرانسپورٹ نظام کو اور مزید بہتر بنا ئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ لندن شہر میں مکانوں کی قلت کو دور کریں گے اور جرم کو کم کرنے کے لئے پولیس ڈپارٹمنٹ کو اور بہتر بنائیں گے۔تاکہ آنے والے دنوں میں تاریخی شہر لندن صادق خان کو صرف نام سے نہیں بل کہ فخریہ ایک کامیاب مسلمان اور ایشیائی مئیر کے طورپر یاد رکھے۔

Leave a Reply