You are currently viewing کیاایران اور اسرائیل تنازعہ تیسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوسکتا ہے؟

کیاایران اور اسرائیل تنازعہ تیسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوسکتا ہے؟

پچھلے کچھ دنوں سے اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ کو لے کر دن رات خبروں کی بھرمار دکھائی دے رہی ہے۔ تو وہیں سوشل میڈیا پر تو ایران کے حمایتی اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کا امکان جتا رہے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل، ایران پر حملے کا لائحہ عمل بنانے میں مصروف ہے۔

 جب ایران نے اسرائیل میں کئی سو ڈرون سے حملہ کیا تو پوری دنیا میں کھلبلی سی مچ گئی۔ کوئی اسے تیسری جنگِ عظیم کی شروعات بتا رہا تھا تو کوئی اسرائیل کے خاتمے کی بات کر رہا تھا۔ایران کے ڈرون حملے کے بعدسوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی اپنی رائے لکھنے لگا۔ لیکن جب یہ خبر آئی کہ ایران کے ڈرون نے اسرائیل کا کچھ نقصان نہیں کیا تو کافی لوگوں کو اس سے مایوسی بھی ہوئی۔ بہت سارے لوگ جو ایران کے اس اقدام سے پر جوش تھے تو وہیں بہت سارے لوگوں نے شیعہ اور سنی کی بات کرنی شروع کر دی۔ اور اب کوئی ایران کا مذاق اڑا رہا ہے تو کوئی اسے ایران کا ایک اہم قدم مان رہا،جس سے اسرائیل میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔ویسے یہ سچ بھی ہے کہ ایران کے ڈرون حملے سے اسرائیل سمیت ان کے حمایتیوں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔وہیں ایران نے کہا ہے کہ ان کا ڈرون حملہ اسرائیل کو محض اپنی طاقت کا ایک نمونہ ہے۔

یوں تو ایران نے اسرائیل کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔اسرائیل کو  نہ تسلیم کرنے کی بات آیت اللہ خمینی کے ایران واپسی اور اعلان کے بعد اب تک قائم ہے۔وقت گزرتا گیا اور گاہے بگاہے اسرائیل اور ایران کسی نہ کسی بہانے آمنے سامنے بھی آجاتے ہیں۔ کبھی سفارتخانہ پر حملہ تو کبھی ایرانی کمانڈر کو مار دینا۔ تاہم پہلے ایران صرف اپنے غصے کا اظہار کرتا اور پھر بات ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتی۔

 لیکن ایران اور اسرائیل کے مابین تناؤ غزہ میں اسرائیلی حملے کے بعد مزید بڑھ گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ جب اکتوبر میں حماس نے ہزاروں اسرائیلی کو مار ڈالا اور یرغمال بنا لیا تب سے اسرائیل نے تیس ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔ اسی بیچ دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ ہوا اور ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو مار ڈالا گیا۔ جس کا شک سیدھے سیدھے اسرائیل پر ہورہا ہے۔ تاہم اسرائیل پچھلے کئی برسوں سے ایران کے نیوکلیر سائنسدانوں کونشانہ بنا رہا ہے اور اس نے گاہے بگاہے کئی اہم افسران کو مارڈالا ہے۔لیکن ایران باوجود یہ جانتے ہوئے کہ اس کارستانی میں اسرائیل کا ہاتھ ہے اس نے اسرائیل پر نہ حملہ کیا اور نہ بدلہ لینے کی دھمکی دی۔

لیکن جب دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ ہوا اور اس کے کئی اعلیٰ افسران مارے گئے تو ایران نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیل پر حملہ کرے گا۔ جس کی سب سے پہلے تصدیق امریکہ نے کی۔ظاہر سی بات ہے اس پورے گیم میں امریکہ اور برطانیہ ہی کپتان ہیں تو انہیں تو اس بات کی واقفیت ہونا چاہئے  تھی۔بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ امریکہ اور برطانیہ نے تو بہت قبل سے ہی ایران پر معاشی پابندی لگا کر ایران کو کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ جس میں انہوں کتنی کامیابی مل رہی ہے اس کا اندازہ لگانا دشوار ہے۔ کیونکہ ایران نے چین اور روس کے ساتھ مل کر اپنی فوجی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔یوں بھی اب امریکہ اور ایران کی معاشی پابندی کا اثر اتنا نہیں دیکھا جاتا جتنا کہ کچھ سال قبل دیکھا جاتا تھا۔ یعنی کہ معاشی پابندی لگا کر ملک کو کمزور کر دیا اور پھر وہاں کے لوگوں کو جمہوریت کا راگ پڑھا کر اس ملک کے حکمران کو مار دینا۔ آپ کو تو عراق اور لیبیا کا ڈرامہ یاد ہی ہوگا۔ وہاں بھی جمہوریت قائم ہوگئی ہے بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ امریکہ اور برطانیہ ان ممالک کے پارلیمنٹ پر قابض ہوگئے ہیں اور وہاں کے کٹھ پتلی سیاستدانوں کو اپنے اشارے پر نچا رہے ہیں۔

ویسے امریکہ اور برطانیہ جو کہ جمہوریت کے محافظ کہلاتے ہیں،  ان کے اپنے ممالک میں جمہوریت سر اٹھا کر بولتی ہے۔ وہیں ان ممالک کے لوگوں کو نہ ان کے وزیراعظم اور صدر کا نام پتہ ہوتا ہے اور محض بیس سے تیس فی صد لوگ ہی اپنا ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ امریکہ اور برطانیہ کیوں دنیا کے ان ممالک میں ٹانگ اڑاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لئے ٹانگ اڑانا ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ بیشتر عرب ممالک میں جمہوریت کا کوئی نام و نشان نہیں ہے اور جہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہے وہاں امریکہ اور برطانیہ بجائے کچھ کہنے کہ ان کے ساتھ تلوار لے کر ناچتے ہیں۔ یعنی امریکہ اور برطانیہ کی دوغلی پالیسی کا بہترین نمونہ ان باتوں سے ہوتا ہے۔غور طلب بات یہ بھی ہے کہ  عرب ممالک ا مریکہ اور برطانیہ سے ہتھیار خریدنے والے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ اب آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے فلسطین یا دیگر مسئلے پر عرب کیوں خاموش اپنی آرائش سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔

ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد امریکہ نے صاف طور پر کہہ دہا ہے کہ وہ اسرائیل کی ایران حملے کی حمایت نہیں کرے گا تو وہی برطانیہ نے بھی اسرائیل کو ایران پر جوابی کارروائی سے گریز کرنے کو کہا ہے۔ لیکن امریکہ اور برطانیہ کی ان باتوں سے مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جانتے ہیں کہ ایران چین اور روس سے مدد لے سکتا ہے جو کہ ایران کی چین اور روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی دوستی کا ایک پہلو ہے۔اور اگر امریکہ نے اسرائیل کی ایران حملے کی کھل کر حمایت کی تو نتیجہ تیسری جنگ عظیم کا ہوسکتا ہے۔ جس سے ممکن امریکہ اور برطانیہ گریز کرنا چاہ رہے ہیں۔ تاہم وہیں امریکہ اور برطانیہ کھلے عام تمام فوجی امداد اسرائیل کو دئیے جا رہے ہیں۔

یوں تو حالات دن بدن پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ اسرائیل حماس کا صفایا کرنے کے لئے کسی بھی بات پر راضی ہونے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے اور پوری دنیا  بدحواس ہو کر اسرائیلی کی جارحانہ غنڈہ گردی سے بے بس اور مایوس ہے۔اُدھر روس نے یوکرین پر اپنا حملہ جاری رکھا ہوا ہے اور ایران اور اسرائیل کی جنگ سے حالات اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ ممکن ہے اب تیسری جنگِ عظیم ہوجائے؟

اسرائیل  ایران کے نیوکلیر شہر اشفہان پر حملہ کر کے ایران کو جنگ میں کودنے پر مجبور کر رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ بات اب سدھرنے کی بجائے مزیدبگڑنے کی طرف رواں دواں ہے۔یعنی کہ آنے والے دنوں میں حالات بد سے بدترین ہوں گے اور تیسری جنگِ عظیم کا ٹلنا ناممکن لگ رہا ہے۔ تاہم اس معاملے کا حل نکالا جاسکتا ہے لیکن  بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ والی بات دکھائی دے رہی ہے۔

Leave a Reply