You are currently viewing رسّی جل گئی پر بل نہیں گیا

رسّی جل گئی پر بل نہیں گیا

20جنوری 2021 تاریخ میں ایک اہم دن مانا جا رہا تھا۔ اس کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی دور کا خاتمہ ہونا تھا تو وہیں نئے منتخب صدر جو بائیڈن کا امریکہ کا 46واں امریکی صدر بننا تھا۔

اس کے علاوہ نائب صدر منتخب کمالا ہارس نے بھی ایک تاریخ رقم کی جو سب سے پہلی ایشیائی اور کیریبین نسل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بن گئی۔اس کے علاوہ ہارے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے انداز میں رخصت ہوئے۔ 2020کے امریکی صدارتی انتخاب میں کئی باتیں تاریخی ہوئی ہیں۔ جیسے ڈیموکریٹ پارٹی کے 77 سالہ ا میدوار جو بائڈن کی جیت سے وہ امریکہ کے اب تک کے سب سے معمر صدر بن گئے۔اس کے علاوہ نائب صدر کے طور پر جیتنے والی 55 سالہ کمالا ہارس (جن کی والدہ ہندوستانی اور والد جمائیکا سے تھے)، پہلی خاتون نائب صدر بن گئی۔اس بار77فی صدسے زیادہ لوگوں نے ووٹ دیے جو کہ ایک ریکارڈ  ہے۔ اس کے علاوہ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائڈن سب سے زیادہ ووٹ پانے والے پہلے صدارتی امیدوار بن گئے ہیں۔ تو وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 2016کے امریکی الیکشن کے مقابلے میں اس بار زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے صدر تھے جنہیں ہار کر بھی سب سے زیادہ ووٹ ملے یعنی لگ بھگ 75ملین امریکیوں نے انہیں ووٹ دیا۔ گویا کہ اس بار کے امریکی الیکشن میں ریکارڈ ہی ریکارڈ بنے ہیں۔

کہتے ہیں ’رسّی جل گئی پر بل نہیں گیا‘۔ ٹرمپ بھی کہاں ماننے والے الیکشن کے نتیجے کے بعد بھی انہوں نے ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور وہ جو بائیڈن کی جیت کو نہیں مانتے۔ الیکشن کے نتیجے کو منسوخ کروانے کے لئے انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی عرضی ڈالی تھی۔ تاہم جب کورٹ نے ثبوت مانگے گئے تو ٹرمپ کو منہ کی کھانی پڑی۔ یعنی یہاں بھی انہیں مایوسی ہوئی۔اس کے بعد بھی ان کا تخریبی دماغ خاموش نہ رہا اور 6جنوری2021 کو ٹرمپ نے اپنے حامیوں کے سامنے ایسی اشتعال انگیز تقریر کی کہ ان کے حامیوں نے آئین کے محافظ اور قانون دانوں پرہی  حملہ کر دیا۔دنیا بھر کے لوگوں نے اپنے ٹیلی ویژن پر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا جو ننگا ناچ دیکھا اس پر کسی کو یقین نہیں آرہا تھا۔ہنگامہ، توڑ پھوڑ،بندوق، نعرے، اور ایسی کئی باتیں جس سے امریکہ سمیت دنیا بھر کے لوگوں کے ہوش اڑ گئے۔ اس ہنگامے کے دوران پانچ لوگوں کی جان بھی چلی گئی۔

20 جنوری 2021کو نئے امریکی صدر جو بائیڈن کو حلف لینے سے قبل امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کو کچھ ایسی اطلاع ملی کہ مجبوراً وائٹ ہاؤس کو ایک ہفتہ قبل ہی 25ہزارنیشنل سیکورٹی گارڈ نے حفاظتی طور پر اپنے محاصرے میں لے لیا۔ایسی اطلاع تھی کہ  ٹرمپ کے حامی دورانِ حلف کوئی بڑا حملہ کرنے والے تھے۔ تاہم اس سے قبل مغرور ٹرمپ نے جو بائیڈن کے حلف برداری تقریب میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ جو کہ امریکی صدارتی حلف برداری میں دوسری بار ہوا جب جانے والے صدر نے انکار کیا ہوا۔اس سے قبل جونسن نے 1869میں صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے سے انکار کیا تھا۔

ان تمام باتوں اور قیاس آرائیوں کے باوجود78 سالہ جو بائیڈن نے بطور 46ویں امریکی صدر کی حیثیت سے چیف جسٹس جان رابرٹس سے20 جنوری 2021کوحلف لیا۔حلف لینے کے بعد انہوں نے کہا کہ ’جمہوریت غالب ہے۔آج امریکہ کا دن ہے۔ آج جمہوریت کا دن ہے۔ ہم امریکیوں کومتحد ہونا ہے۔ ہمیں غیر مہذب جنگ ختم کرنا ہے۔کملا ہیرس نے جو بائیڈن سے پہلے نائب صدر کی حیثیت سے حلف لیا۔امریکی تاریخ میں پہلی بار کملا ہارس ایک خاتون نائب صدر بنی ہیں۔ جسے امریکہ کی تاریخ میں ایک اہم قدم بتایا جا رہا ہے۔

جوبائڈن کے امریکی صدر بننے سے کئی باتوں  میں پیش رفت  کی امیدہے۔اب تک انہوں نے ان باتوں کا اعلان کیا ہے جس کی امید کی جارہی تھی۔ جیسے پیرس ماحولیاتی معاہدے میں امریکہ کا دوبارہ شامل ہو نے کا اعلان۔امریکہ ڈبلو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن)کے ساتھ شامل ہو کر عالمی سطح پرکورونا وائرس کی راہنمائی کر ے گا۔نیٹو اتحادیوں پر دفاع کے لیے دو فی صد خرچ کرنے پر غور کرے گا۔ مسلم ممالک مہاجروں پر سے امریکہ آنے کی پابندی کا خاتمہ۔ مشرق وسطی میں اسرائیل کی بھر پور حمایت پر غور کیا جائے گا  اور  فلسطینی  زمین کو قبضہ کرکے نئی آبادیوں کی تعمیر پر روک لگائی جائے گی۔ ایران اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور بہتر بنائے جائیں گے۔ اگر تہران نے نیو کلئیر معاہدہ پر رضامندی ظاہر کی تو ایران کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔اس کے علاوہ یمن میں سعودی عرب کی زیر قیادت جنگ کے لیے امریکی حمایت ختم کر دی جائے گی۔

2020کا امریکی الیکشن پر دنیا بھر کی نظر ٹکی ہوئی تھی۔ اس کی ایک وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت اور ہار تھی تو دوسری وجہ جو بائیڈن اور کملا ہیریس کا صدر اور نائب صدر بننا تھا۔ کورونا وائرس کی مار اور ٹرمپ کی آئے دن کے بیانات سے امریکہ میں  کافی تناوتھا۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوا کہ کہیں امریکہ خانہ جنگی میں نہ ملوث ہوجائے۔تاہم ایک بات تو سچ ہے کہ امریکہ اب پہلے سے بہت زیادہ تقسیم ہوچکا ہے۔  ٹرمپ کے جارحانہ انداز نے امریکہ کے سیاسی اور سماجی ماحول میں زہر گھول دیا ہے۔ جس کو دور کرنے میں ایک عرصہ لگ سکتا ہے۔

 میں ٹرمپ کو اس طرح  یاد کروں گا کہ وہ ایک نسل پرست اور تخریب کار صدر تھے،جسے دنیا کبھی معاف نہیں کرے گی۔ میں ٹرمپ کوامریکہ کا اب تک کا سب سے بدنام اور ذلیل صدر مانتا ہوں۔ انہوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر میں اپنی جارحا نہ پالیسی سے نسلی بھید بھاؤ کو فروغ دیا۔ایک ایسا امریکی صدر جو دولت کے نشے میں چور اور اپنی انا کے لیے پوری دنیا میں بدنام تھے۔ پچھلے چار سال انہوں نے جتنی اوٹ پٹانگ باتیں اور زہر اگلا تھا اس سے دنیا کی امن کو شدید دھچکا لگا۔ ان کے چار سال کے عہد میں ان کی پالیسی سے دنیا میں افراتفری پھیل گئی۔ مثلاً اسرائیلی زمین ہڑپنے کی حمایت، ایران پر معاشی پابندی، ایران کے نیوکلئیر معاہدہ کو رد کر دینا، پیرس کے عالمی ماحولیاتی کو نظر انداز کرنا، میکسیکو سرحد پر اونچی دیواروں کی تعمیر، مسلمان پناہ گزینوں کوامریکہ آنے پر پابندی، چین سے تجارت پر ٹیریف لگانا۔اور نہ جانے ایسے کتنے معاملات جس کا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مرضی کے مطابق طاقت کا استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا میں مایوسی کی لہر دوڑ ا دی۔

ٹرمپ کا رخصت ہونا ان معنوں میں ایک اچھی خبر ہے کہ پچھلے چار برسوں میں جس طرح دنیا کی سیاست نے کایا پلٹی تھی اس سے امن پسند انسان سہم سا گیا تھا۔ تاہم جو بائیڈن کے صدرر بننے سے حالات کتنے بہتر ہوں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی خاص تبدیلی دکھائی دے گی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ ہمیشہ دنیا کا ایک امیر اور طاقتور ملک سمجھتاہے جو کہ چین، روس کے لیے نا قابلِ قبول ہے۔اس کے علاوہ مشرقی وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا اب تک کوئی حل نہیں نکل پایا ہے۔دوسری طرف ایران ایک ایسا ملک ہے جو ہمیشہ امریکہ کے لیے دردِ سر بنا رہتا ہے۔

عام طور پرامریکہ کے تعلقات مسلم آبادی والے ملکوں سے ہمیشہ خراب رہے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ آنے والے دنوں میں حالات میں کوئی بہتری ہوگی۔ کیونکہ امریکہ خاص کر عرب ممالک میں ناپسند کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک میں امریکی فوجی مداخلت ایک عام بات ہوگئی ہے جس سے وہاں کے باشندوں میں امریکہ کے خلاف ہمیشہ غصہ پایا جاتا ہے۔

خیر ٹرمپ تو چلے گئے اور جو بائیڈن آگئے۔ جو بائیڈن کے لیے یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ ان کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ فی الحال  انہیں امریکہ کے کمزور جمہوری نظام کو مضبوط کرنا ہے، امریکیوں کو متحد کرنا ہے اور دنیا بھر میں امریکہ کے وقار کو جو ٹھیس پہنچی ہے اسے بحال  کرنا ہے۔

Leave a Reply