جسے بت بنایا خدا ہوگیا!

پتہ نہیں آپ کو کیسامحسوس ہوتا ہے لیکن سچ پوچھیے تو مجھے جب کوئی یہ خبر دیتا کہ آج ایک مجسمہ ڈھا دیا گیا تو واقعی دلی خوشی ہوتی۔اب یہ بات اگر آپ خود اپنے آپ سے پوچھیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ مجسموں کو ڈھانے میں کونسا قلبی سکون ملتا ہے۔

 مجسموں کے ڈھانے میں عام انسان کو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ مجسمہ بذاتِ خود انسانوں کے سامنے ایک پیغام لے کر کھڑا دِکھتا ہے اور کہیں مجسمہ کی نمائش سے تاریخ کی وہ بات دکھائی دیتا ہے جو ہم نے سن رکھے تھے۔ تاہم زیادہ تر زیادہ تر مجسمہ چاہے وہ مذہبی عقیدے کے ہوں یا سیاسی لیڈران یا کسی فنکار کا، سبھی میں ایک بات یکساں ہوتی ہے کہ وہ اپنے دور کے ایسی شخصیت گزرے ہیں جن کے کارناموں سے دنیا انہیں یاد رکھتی ہے یا اس پر فخر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی عقیدے کے طور پر مجسموں کی نمائش سے انسان کو ایک ایسا پیغام دیا گیا انسان کچھ پل کے لیے ایک ایسے طلسماتی تصور میں کھو جاتا ہے کہ اس کے سامنے وہ مجسمہ کسی خدا کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔آج بھی پورے یورپ میں مذہبی اور شخصی بنیاد پر قد آور مجسموں کی نمائش ہر جگہ دِکھائی دیتی ہے۔ جسے دیکھ کر عیسی مسیح کے خدا ہونے کا یقین ہوتا ہے تو وہیں  بہادر اور طاقتور حکمرانوں کے مجسمے کو دیکھ کر ملک کی آن و شان کا بھی پتہ چلتا ہے۔

دنیا جب سے قائم ہوئی ہے تب سے بت یا مجسمہ بنانے کا رواج رہا ہے۔ ہر قبیلے کے لوگ اپنے حاکم کی یاد میں اس کا مجسمہ بناتے اور اس کی پوجا بھی کی جاتی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مغربی حکومتوں نے جب دنیا پر قبضہ کیا تو انہوں نے بے شمار مجسموں کو شہر کی اہم شاہراہوں پر لگایا۔ جس سے اس بات کا پتہ چلتا کہ اس ملک  کے حکمران کون تھے اور ان کا کیسا دبدبہ تھا۔ تاہم اسلام نے بت پرستی اور مجسموں کی  نمائش کی ممانعت کی ہے اور فتح مکہ کی بنیاد مکہ کو بت پرستی سے پاک کرنا تھا۔یوں تو دنیا کی تمام مذاہب میں کسی چیز کا تصور کرکے خدا کی پہچان کرنا عام پایا جاتا ہے۔ لیکن اسلام میں کعبہ کو محض اللہ کا گھر مان کر سجدے کرنا کا حکم دیا گیا ہے نا کہ اس کی پرستش کا حکم دیا گیا ہے۔

برطانیہ میں برسوں سے مجسمہ بنانا انگریزی تاریخ کا ایک اہم حصہ مانا جاتا ہے۔ انگریز حکمران کی طاقت کا نشہ اور دنیا بھر میں حکمرانی نے یہاں کے حکمرانوں میں مجسمہ بنانے اور اس کی آن و شان میں کوئی کسر نہ چھوڑ رکھی ہے۔لندن کی پارلیمنٹ کے قریب آپ کو بے شمار مجسموں کی نمائش دکھے گی۔ اور اگر آپ پارلیمنٹ کے اندر داخل ہوں تو وہاں بھی مجسموں کی بھرمار ملے گی۔ اس کے علاوہ شہر بھر بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ ملک بھر میں آپ کو کہیں تلوار لیے یا بندوق لیے کسی نہ کسی مجسمے پر نظر پڑے گی جو کہ انگریزی حکومت کے اس دور کی عکاسی کرتا ہے جس میں انگریزوں نے پوری دنیا پر حکمرانی کی تھی۔

میں نے دنیا کے بیشتر ممالک کا سفر کیا ہے اور میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کئی مسلم آبادی والے ممالک میں بھی مجسموں کی کا فی اہمیت ہے۔مثلاً ترکی، عراق، ایران، مصر، وغیرہ ایسے ممالک ہیں جہاں حکمرانوں کی بالادستی اور قومیت کے جذبے نے انہیں مجسمے بنانے پر مجبور کر دیا۔آپ کو عراق کی جنگ اور اس کے بعد صدام حسین کے مجسمے کو جس طرح گرا کر جشن منایا گیا تھا وہ تو یا د ہی ہوگا۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ اُس وقت مغربی طاقتیں اور امریکہ اس کام کو انجام دینے میں نمایاں تھے۔ البتہ انہوں نے اس کام کو وہاں کے عوام سے کروایا تھا تاکہ بدنامی ان کے سر نہ آپڑے۔ترکی میں بھی اتاترک کا مجسمہ خوب دیکھا جاتا ہے اور اس کے علاوہ اور بھی معروف حکمرانوں کے مجسمے خوب دیکھے جاتے ہیں۔ میں نے ترکوں میں قومی جذبہ بہت زیادہ پایا ہے اور سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔

بلجیم کے گانت شہر میں ایک بادشاہ کے مجسمے کو لال رنگ سے رنگ دیا گیا ہے اور اس کے مجسمے کے شہرے کو ایک کپڑے سے چھپا کر اس پر لکھا گیا ہے کہ ’میں سانس نہیں لے سکتا ہوں‘۔ جو جورج فلائیڈ کی یاد دلاتاہے جسے ایک امریکی سفید فام پولیس افسرنے اپنے گھٹنے سے زمین پر گرا کر رکھا ہوا تھا۔

جب سے سیاہ فام جورج فلائیڈ کو امریکی پولیس نے مارا ہے بی ایل ایم(BLM-Black Lives Matter)کی تحریک نے پوری دنیا میں نسل پرستی کے خلاف جد و جہد شروع کی ہے جس میں صرف سیاہ فام لوگ ہی نہیں بلکہ سفید فام لوگ بھی خوب بڑھ چڑھ کر حصّہ لے رہے ہیں۔ آئے دن امریکہ، فرانس، برطانیہ سمیت دنیا کے تمام شہروں میں نسل پرستی کے خلاف  تحریک زور پکڑتی جارہی ہے۔ لندن میں بی ایل ایم کے احتجاج کے خلاف سفید فام کے نسل پرست لوگ سامنے آگئے اور جس کے نتیجے میں درجنوں لوگ زخمی اور گرفتار ہوئے ہیں۔

لیکن ان باتوں سے ہٹ کر ایک دلچسپ بات یہ دیکھی جا رہی ہے کہ دنیا کے معروف شہروں میں لیڈر، طاقتور حکمراں یا بادشاہ، اور امریکہ دریافت کرنے والے شخصیات کے مجسموں کو یا تو گرایا جا رہا ہے یا انہیں گرافیٹی سے خراب کیا جا رہاہے۔احتجاج کرنے والوں کا ماننا ہے کہ یہ شخصیات ماضی میں سیاہ فام افراد کی غلامی کے دور میں لوگوں پر زیادتیوں کی ذمہ دار تھیں۔لگ بھگ سو سے زیادہ مجسمے ایسی شخصیات کے گرائے گئے ہیں جونسل پرستی یا سیاہ فام افراد کی غلامی  میں ملوث رہے ہیں۔ برطانیہ کے بورنمتھ شہر میں اس وقت تناؤ پیدا ہوگیا جب احتجاجی اور سکاؤٹس مومنٹ کی بنیاد ڈالنے والے رابرٹ بیڈن کے حمایتی آمنے سامنے ہوگئے۔ رابرٹ بیڈن پاول پر الزام ہے کہ انہوں 1941میں نسل پرستی، ہوموفوبیا اور ہٹلر کی حمایت کی تھی۔

اسی طرح امریکہ میں کرسٹوفر کولمبس سمیت متعدد  مشاہر  کے مجسمے منہدم کر دیے گئے ہیں۔ امریکہ میں نصاب کتابوں میں کولمبس کو پندھرویں صدی میں امریکہ کو دریافت کرنے کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ کولمبس اور دیگر رہنما ؤں میں ایک بات عام تھی اور وہ تھی سیاہ فام لوگوں کے خلاف نسل پرستی۔اس کے علاوہ امریکی ریاست ورجینیا میں جنرل رابرٹ لی کے مجسمے کو ہٹا رہی ہے۔ جورج فلائیڈ کی موت کے بعد احتجاجیوں نے اس مجسمے کو توڑ پھوڑ دیا تھا۔

 سب سے دلچسپ بات  تب ہوئی جب احتجاجیوں نے برطانیہ کے آنجہانی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے مجسمے پر توڑ پھوڑ  کی اور مجسمے پر گرافیٹی لکھ کر اسے ہٹانے کی مانگ کی۔ کتنی عجیب بات ہے یہ وہی ونسٹن چرچل ہے جس پر برطانیہ کو دوسری جنگِ عظیم کا ہیرو مانا جاتا ہے۔

2002میں ونسٹن چرچل کو بی بی سی نے ایک متاثر کن سیاستدان، مصنف، مقرر اور رہنما کہتے ہوئے برطانیہ کی تاریخ کا سب سے مقبول شخص قرار دیا تھا۔تاہم اگر آپ چرچل کی زندگی اور اس کی باتوں کا جائزہ لیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ چرچل نسل پسند تھا اور وہ سفید فام لوگوں کو افضل مانتا تھا۔جس کا اعتراف مورخ رچرڈ نے اپنی آنے والی کتاب ’دی چر چل متھ‘ میں بھی کیا ہے۔اس کے علاوہ چرچل نے

 ہندوستانیوں کے بارے میں ناپسندیدہ باتیں کہیں جو اس کے خیال میں وحشی قوم تھی جن کا وحشی مذہب تھا اور اس طرح اس نے چینیوں کے بارے میں بھی ناپسندیدہ باتیں کہیں۔

چرچل پر یہودی مذہب اور اسلام کے بارے میں بیانات،اور بنگال میں قحط جس میں بیس لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے،پر بھی تنقید کی گئی تھی۔

جارج فلائیڈ کی موت اور امریکہ سے شروع ہونے والی نسل پرستی کے خلاف تحریک نے دھیرے دھیرے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نسل پرستی کے مخالف لوگ ان نسل پرست حکمراں، بادشاہ، کاروباری اور رہنماؤں کے مجسموں کو بھی توڑنا چاہتے ہیں جس پر ابھی تک کسی نے انگلی نہیں اٹھائی تھی۔لیکن جب برطانیہ کے برسٹل شہر میں سترھویں صدی کی ایک غلاموں کی تجارت کرنے والے شخص ایڈورڈکولسن کا مجسمہ منہدم کرکے اُسے سمندر میں پھینک دیا تو دنیا نے اس بات کو محسوس کیا کہ اب نسل پرستی کی کمر ٹوٹ رہی ہے۔

میں ان مجسموں کے گرنے اور ٹوٹنے سے اس لیے مطمئن ہوں کہ میں مانتا ہوں کہ مجسمے ایک شخص کی عظمت کو بیان کرتا ہے نا کہ ایک ایسے شخص کوجونسل پرستی کی حمایت، غلاموں کی تجارت، کسی قوم یا مذہب سے نفرت اور قتل و غارتگری میں ملوث تھا۔

Leave a Reply